دل آزردہ
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - افسردہ خاطر، غمگین، ناخوش، رنجیدہ۔ "کیا تو نے اس دل آزردہ کا قول نہیں سنا۔" ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان (ترجمہ)، ٦١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ 'آزردن' مصدر سے حالیہ تمام 'آزردہ' لگایا گیا ہے۔ جو اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - افسردہ خاطر، غمگین، ناخوش، رنجیدہ۔ "کیا تو نے اس دل آزردہ کا قول نہیں سنا۔" ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان (ترجمہ)، ٦١ )